نگران وزیراعلیٰ کا چھموگڑھ، جلال آباد امن معاہدے کا خیرمقدم، 8 محرم واقعے کے بعد تنازع جرگہ کے ذریعے حل
گلگت: پریس ریلیز
نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس ریٹائرڈ یار محمد نے چھموگڑھ اور جلال آباد کے درمیان امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں پائیدار امن، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے، اور امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین آئندہ بھی امن کے قیام کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔
یہ تنازع گزشتہ سال 8 محرم الحرام کو چھموگڑھ کے مقام پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں علاقوں کے درمیان کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ تاہم صوبائی حکومت کی سنجیدہ کاوشوں اور مسلسل رابطوں کے نتیجے میں معاملہ جرگہ کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا۔
تنازع کے حل کے لیے دونوں جانب سے چھ، چھ رکنی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے باہمی مشاورت، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کو آگے بڑھایا۔ اس عمل میں کوہستان کے بزرگوں پر مشتمل جرگہ نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، جبکہ ڈپٹی کمشنر گلگت نے بھی اس تمام عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں مدد دی۔
اسی سلسلے میں آج وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں نگران وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں عمائدین جلال آباد، عمائدین چھموگڑھ، کوہستانی جرگہ کے اراکین اور نگراں کابینہ کے ممبران شریک ہوئے۔ اجلاس میں طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے گفتو شنید ہوئی جسے تمام شرکاء کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا گیا۔
وزیراعلیٰ نے جرگہ اور عمائدین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ فریقین نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کیا، جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے خاص طور پر جلال آباد اور چھموگڑھ کے عمائدین اور کوہستان کے بزرگوں کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہا، جن کی دانشمندانہ کوششوں سے یہ معاہدہ ممکن ہوا اور علاقے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوئی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ اتحاد، رواداری اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنا ناگزیر ہے، جبکہ حکومت ایسے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرے گی جو خطے میں استحکام اور ہم آہنگی کے فروغ کا باعث بنیں۔
جرگہ کے اراکین نے بھی اس موقع پر امن اور مفاہمت کے حق میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے عوام مزید کشیدگی کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے تمام اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین نے بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مثبت مثال قائم کی ہے، جسے برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
09:03:03 AM
27 April, 2026
گلگت
جشنِ بہاراں پولو ٹورنامنٹ 2026 کا شاندار آغاز وہاب شہید پولو گراؤنڈ گلگت میں روایتی جوش و خروش کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ارشد مجید مہمند نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور گیند پھینک کر ٹورنامنٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔
تقریب میں سیکریٹری سیاحت و ثقافت سردار اسد ہارون سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے،جنہوں نے شرکت کرنے والی ٹیموں سے ملاقات کی اور انہیں مقابلوں کے دوران بہترین کھیل اور اعلیٰ سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔بظور مہمان خصوصی چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے اس موقع پر کہا کہ پولو گلگت بلتستان کی ثقافت کا ایک اہم اور قدیم حصہ ہے، جو علاقے کی روایات، یکجہتی اور زندہ دل روح کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف شائقین کو دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے فراہم کرے گا بلکہ خطے کی بھرپور ثقافتی شناخت کو بھی اجاگر کرے گا۔
واضح رہے کہ جشنِ بہاراں پولو ٹورنامنٹ 2026 کے دوران مختلف ٹیموں کے مابین اعلیٰ معیار کے مقابلے متوقع ہیں، جو کھیل کے فروغ کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
08:56:44 AM
27 April, 2026
*الیکشن کمیشن گلگت بلتستان*
*پریس ریلیز بابت آل پارٹیز کانفرنس*
*22 اپریل 2026*
گلگت
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی۔الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے عام انتخابات 2026 کے شیڈول کے اعلان کے بعد انتخابی عمل کے تسلسل میں کل (23 اپریل 2026) بروز جمعرات صبح 11 بجے الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ جٹیال گلگت میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی ہے۔
شعبہ تعلقات عامہ الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ، گلگت بلتستان کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ 7 جون 2026 کو منعقد ہوگی جبکہ تمام 24 حلقوں میں انتخابی عمل جاری ہے۔ انتخابی عمل کوصاف،شفاف، منصفانہ اور مربوط انداز میں آگے بڑھانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے مقصد سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس میں انتخابی عمل، ضابطہ اخلاق، باہمی مشاورت، انتخابی امور میں ہم آہنگی اور دیگر متعلقہ معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کی آراء اور تجاویز کی روشنی میں انتخابات کے انعقاد کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ اور وقت پر آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت یقینی بنائیں تاکہ عام انتخابات 2026 کے انعقاد کے حوالے سے اپنی قیمتی آراء، تجاویز اور رہنمائی فراہم کر سکیں۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عام انتخابات 2026 کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔
*جاری کردہ*
*شعبہ تعلقات عامہ*
*الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ، گلگت بلتستان*
08:09:46 AM
22 April, 2026
گلگت۔ گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا ہز ہایئنس پرنس کریم آغا خان کے یوم ولادت کے موقع پر دنیا بھر کی اسماعیلی برادری، بالخصوص گلگت بلتستان کی اسمائیلی برادری کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
اس موقع پر گورنر گلگت بلتستان نے پرنس کریم آغا خان کی دنیا بھر اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں نمایاں خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ گورنر گلگت بلتستان نےکہا کہ پرنس کریم آغا خان نے تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں اپنے اداروں کے ذریعے جو کردار ادا کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔
گورنر گلگت بلتستان نے امید ظاہر کی کہ ہز ہایئنس پرنس کریم آغا خان اپنے اداروں کے ذریعے مستقبل میں بھی بالعموم پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔
Syed Mehdi Shah See less
Comments
Most relevant is selected, so some comments may have been filtered out.
09:26:29 AM
16 December, 2024
جو 1947 کو گلگت بلتستان کے نہتے اور بہادر عوام نے اپنے وطن کو ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا تھا۔ گلگت بلتستان کے عوام محب وطن ہیں اور ملک و علاقے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ آج کا دن ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کا آپس میں اتحاد و اتفاق سے آزادی کے لیئے جدوجہد کا یاد دلاتا ہے۔گلگت بلتستان کے شہداء نے قربانیاں دے کر یہ خطہ آزاد کروایا،جس پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔یکم نومبر کا دن آزادی کے مجاہدوں، غازیوں اور شہیدوں کو جہاں خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے،وہاں ان سے تجدید عہد کا دن بھی ہے۔
ہماری زمہ داری اور فرض ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور آنے والی نسلوں کو آزادی کا مقصد اور مفہوم کو پہنچانا ہے۔
زندہ قومیں ہمیشہ اپنی اسلاف کی قربانیاں یاد رکھتی ہیںں۔آزادی ایک نعمت ہے جو ہمیشہ قربانیوں اور جدوجہد کے صلے میں ملتی ہے۔گلگت بلتستان میں ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کا جذبہ اور مقصد لا إلہ إلا اللہ کے نظریے پر وجود میں آنے والے مملکت خداداد پاکستان تھا۔ہمارے آباؤ اجداد نے بغیر کسی بیرونی امداد کے اس اہم خطے کو آزاد کرایا۔اس وقت ہمارے مجاہدین لداخ اور بانڈی پورہ تک پہنچ گئے تھے۔گلگت بلتستان کے عوام نے قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی ہے اور اس آزادی کا دفاع کرنا بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ہماری پاک فوج نے دشمن کے عزائم کو ہمیشہ ناکام بنایا ہے،جس بہادری کا مظاہرہ کیا ہے،اس پر پوری قوم اپنی افواج کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ہماری بہادر افواج نے ہمیشہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہےکسی بھی قوم کی کامیابی کا انحصار اس کی محنت پر ہے۔اگر ہم اس ملک کی ترقی کیلئے محنت نہیں کریں گے تو شہداء کی خون سے بے وفائی ہوگی۔
آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔آزادی کو پانے کیلئے لوگوں کی نسلیں گزر جاتی ہیں۔ہمارے آباؤ اجداد نے گلگت بلتستان کو آزاد کرانے کے بعد مملکت پاکستان کے ساتھ بغیر کسی شرط کے صرف اور صرف کلمہ اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر الحاق کیا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا نوجوان جس جذبے اور ولولے سے جشن آزادی پاکستان مناتا ہے اسی طرح یکم نومبر جشن آزادی گلگت-بلتستان بھی اسی ولولے اور جزبے کے ساتھ مناتا ہے،اس لحاظ سے گلگت بلتستان کی عوام بڑی خوش قسمت ہے کہ وہ سال میں دو آزادیاں مناتے ہیں۔
اس تجدید عہد کا تقاضا ہے کہ ہم بطور پاکستانی،مملکت پاکستان اور گلگت-بلتستان کو پر امن بنانے میں ہم اپنا خصوصی کردار ادا کریں۔زندہ قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد کرتی ہیں۔مملکت خداداد پاکستان اور گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیئے ہمیں ایک بار پھر یکم نومبر 1947ء کی طرح علاقائی اور مسلکی تعصبات سے بالا تر ہوکر آپس میں اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے اور گلگت بلتستان کے ہر فرد پر فرض ہے کہ وہ علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیئے اتحاد اور امن کی فضاء کو قائم رکھے۔
ہم گلگت بلتستانی ہے
دل سے پاکستانی ہے
پاکستان زندہ باد
گلگت بلتستان پائندہ باد
02:44:27 PM
01 November, 2024
گلگت بلتستان کی آزادی کے مجاہدین نے بے سروسامانی کی حالت میں ڈوگرہ راج کو شکست فاش دی اور ڈوگرہ مظالم اور استحصال کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ بھی کیا۔ گلگت بلتستان میں ڈوگرہ راج کے انتظامی سربراہ گورنر گھنسارا سنگھ کو جی بی سکاوٹس نے گرفتار کرکے خطے کی آزادی پر مہر ثبت کردی اور ریاست پاکستان کے ساتھ رشتہ جوڑنے کی بنیاد بھی رکھی۔ آزادی کے ہیروز نے ناگفتہ بہ حالات اور بغیر کسی بیرونی امداد کے ریاست جموں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کی باقاعدہ تربیت یافتہ ڈوگرہ افواج کو ناکوں چنے چبواتےہوئے ان پر غلبہ حاصل کیا ۔ یا درہے کہ اس خطے کی عوام اور جنگ آزادی کے ہیروز نے ڈوگرہ افواج کو سازو ساما ن اور اسلحہ کی برتری کے باوجود گلگت بلتستان کی سرحدوں سے مار بھگایا۔ یکم نومبر گلگت بلتستان کی آزادی کا دن ہے، جو پاکستان کے ساتھ اس کے اٹوٹ انگ رشتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دن نہ صرف آزادی کے لئے کئے گئے مسلح جدوجہد کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس دن کی نسبت سے دنیا کو یہ بھی باور کرایا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کا اٹوٹ انگ کا رشتہ ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام نے پاکستان کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑتے ہوئے غیر مشروط طور پر الحاق کا اعلان کیا اور عوامی جذبات کی بھرپور توثیق کی۔ اس دن کی یاد ہر سال تزک و احتشام سے منائی جاتی ہے اور خطے کے ہر شہر و قصبے میں جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ مجاہدین کی یاد میں گلگت بلتستان کے لوگ ان کی قربانیوں کو سلام کرتے ہیں اور ان کی بہادری کو یاد رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق ایک تاریخی فیصلہ تھا ، یہ فیصلہ نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی اور اقتصادی سطح پر بھی اہم تھا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق نے گلگت بلتستان کو ایک مستحکم ملک کے ساتھ جوڑ دیا، جس سے خطے کی ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہوا۔گلگت بلتستان اور پاکستان کے الحاق کا فیصلہ نہ صرف سیاسی بلکہ ثقافتی اور سماجی سطح پر بھی ایک اہم موڑ تھا، گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کو بہت عزیز رکھتے ہیں اور یہ رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ آزادی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں گلگت بلتستان کی تاریخ میں جھانکنا ہوگا۔ ڈوگرہ راج کے تحت، گلگت بلتستان کے لوگوں کو بے شمار مظالم کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انہیں اپنی ثقافت، زبان، اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی نہیں تھی۔ آزادی کے بعد، گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنی زندگیوں کو اپنے مطابق گزارنے کی آزادی ملی، جو کہ مقامی آبادی کی ترقی اورخوشحالی کا بنیادی ستون ہے ۔ ڈوگرہ راج کے تحت گلگت بلتستان کے لوگوں کو بے شمار مظالم کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مقامی لوگوں سیاسی، سماجی، اور اقتصادی استحصال کا شکار تھے ۔ گلگت بلتستان کے لوگوں نے اس جبر اور مظالم کے خلاف جدوجہد کی اور اپنی آزادی کی جنگ لڑی۔ ان کی جدوجہد نے نہ صرف گلگت بلتستان کو آزاد کروایا بلکہ یہ بھی یقینی بنایا کہ وہ اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے خود فیصلے کر سکیں گے ۔ پاکستان کی اہمیت گلگت بلتستان کے لیے بہت زیادہ ہے۔ پاکستان نے گلگت بلتستان کو سیاسی، سماجی، اور اقتصادی استحکام فراہم کیا ہے۔ پاکستان کی سرپرستی میں، گلگت بلتستان نے اپنی ترقی کی راہ پر تیزی سے قدم بڑھائے ہیں۔ اس حقیقت سے کسی باشعور انسان کو انکار نہیں کہ حکومت پاکستان کے سول اور دفاعی اداروں نے گلگت بلتستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خطے میں بیروزگاری کی خاتمے کے لئے اقدامات، انفراسٹرکچر کی بہتری ، بجلی کی پیداوار کے منصوبے، سڑکوں کی تعمیر، مقامی سیاحت کی ترقی ، تعلیمی اداروں بشمول قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، خواتین اور مردوں کے لئے کالجز، سکولز کا قیام اس امر کی دلیل ہیں کی حکومت پاکستان نے اپنے وسائل سے گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں۔ صحت عامہ کے شعبے پر نظر ڈالی جائے تو خطے نے حال ہی میں اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت گلگت میں اولین کینسر ہسپتال کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور ہسپتال کو مکمل طور پر فعال کیا جا چکا ہے۔ گلگت شہر میں ہی خطے کا اولین امراض قلب کا ہسپتال بھی آپریشنل بنایا جا چکا ہے جہاں سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ دور افتادہ علاقہ ہونے کے سبب ماضی میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے کینسر اور امراض قلب کے مریضوں کو راولپنڈی اور ملک کے دیگر شہروں میں موجود علاج گاہوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ صحت سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری اور سہولیات کی فراہمی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان نے روز اول سے گلگت بلتستان کی ترقی کو مقدم رکھا ہے۔ آئیے اس دن کی مناسبت سے ہم سب عہد کریں کہ اجتماعی اور انفرادی کوششوں سے پیارے وطن پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مملکت پاکستان کو معاشی و سیاسی سطح پر دنیا کی ایک اہم قوت بنا سکیں۔
تحریر : محمد سلیم خان۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان
#independanceday2024
02:42:59 PM
01 November, 2024
بلاشبہ کشمیریوں کے لیے 27 اکتوبر کا دن کسی ڈروانے خواب سے کم نہیں۔یہی وہ سیاہ دن تھا،جب بھارتی غاصب افواج نے کشمیر کی جنت نظیر وادی میں قدم دھرے۔کنٹرول لائن کے دونوں جانب،ملک بھر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج 27 اکتوبر کو” یوم سیاہ“ کے طور پر بھرپور انداز میں منارہے ہیں،جس کا مقصد بھارتی حکام اور عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ کشمیری اپنے مادر وطن پر غیر قانونی بھارتی قبضے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
بھارتی آئین میں ترمیم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا گیا۔اب تک لاکھوں بے گناہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔عالمی برادری کو بھارتی ریاستی اداروں کے جبر اور ظلم کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔اقوام متحدہ کی قرارداد کے عین مطابق کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دیا جاۓ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستانیوں اور مقبوضہ کشمیریوں کا رشتہ لازوال ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کے قلوب سے پاکستان کی محبت کو مٹانا چاہتا ہے۔بھارت بھول جاتا ہےکہ پاکستانیوں اور کشمیری بھائیوں کے دل ساتھ دھڑکتے ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت اور تائید کرتے ہیں۔بھارت کشمیریوں کی آواز دبانا چاہتا ہے۔75 سالوں سے ہمارا اور کشمیریوں کا ایک ہی رشتہ ہے اور وہ کلمے کا رشتہ ہے،جو کہ ایک مضبوط رشتہ ہے جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیری عوام بھارتی غلامی ہرگز قبول نہیں کریں گے اور آزادی کی صبح تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی زیادتی اور ہٹ دھرمی کے باوجود عالمی برادری خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے،اے چاہئے کہ جموں وکشمیر میں مظالم پر بھارت کا ٹھیک ٹھاک محاسبہ کرے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے عین مطابق حل کرانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کی آواز بنتے ہوئے اپنے وعدے پورے کریں۔
بھارت مظلوم کشمیریوں کی جرات، بہادری اور مضبوط ارادوں کو شکست نہیں دے سکا ہے اور نہہی کبھی دے سکتا ہے،گلگت بلتستان کا بچہ بچہ مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کی بھر پور مذمت کرتا ہے،اس حوالے سے گلگت بلتستان بھر میں آج پوری عوام سراپا احتجاج کررہاہے اور اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروارہیں ہیں۔
اج کے دن گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں اپنے کشمیری بہن بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں منعقد کررہے ہیں۔اسی حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کی خصوصی ہدایت پر کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بھارتی غاصبانہ رویے کے خلاف آج خطے کے تمام دسویں اضلاع میں مختلف تقاریب کا سلسلہ جاری ہے۔اسی حوالے سے ضلعی انتظامیہ گلگت کے زیر اہتمام کشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف احتجاجی ریلی آغا خان شاہی پولو گراؤنڈ بینظیر چوک سے گھڑی باغ تک نکالی جارہی،جس میں گلگت شہر سمیت دیگر اضلاع کے غیور عوام ماضی کی طرح ریلی میں بھرپور شرکت کرکے قومی و ملی جزبے کا ثبوت دیں گے،اسکے علاؤہ سکولوں اور کالجز میں بھی مختلف پروگراموں اور احتجاجی ریلیز نکالی جائیں گی،جس میں گلگت بلتستان کے عوام بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بدترین بھارتی ریاستی دہشت گردی پر عالمی برادی کی مجرمانہ خاموشی پر افسوس کا اظہار کریں گے۔
منیر جوہر
اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات،حکومت گلگت بلتستان
06:54:42 AM
28 October, 2024
ملک بھر کی طرح ضلع استور میں بھی یوم دفاع پاکستان پورے ملی جوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا. دن کا آغاز مساجد میں ملکی سالمیت اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا. پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ استور کے زیر اہتمام یادگار شہداء میں ایک تقریب منعقد کی گئی. کمانڈر 80 برگیڈ برگیڈئر سلمان ارشد اور ڈپٹی کمشنر استور محمد طارق نے یاد گار شہداء پر حاضری دی پھول چڑھاۓ اور شہداء کی بلندی درجات کے لیے دعا کی. اس موقع پر پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نے سلامی دی. تقریب میں اعلیٰ سول وعسکری حکام اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور شہداء وطن کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا. یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے آرمی پبلک سکول استور میں بھی ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی. تقریب کے مہمان خصوصی لفٹنٹ کرنل شہریار خٹک تھے .تقریب کے دوران سکول کے طلباء نے یوم دفاع پاکستان کی مناسبت سے مختلف پروگرامز پیش کرکے وطن سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا. اس موقع پر خطاب کرتے ہوۓ ڈپٹی کمشنر استور محمد طارق نے یوم پاکستان کے موقع پر کہا کہ آج کا دن ہماری تاریخ کا ایک اہم دن ہے. اس دن افواج پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہوۓ نہ صرف ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا بلکہ ناقابل تلافی نقصان پہنچایا. افواج پاکستان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن کو سلامتی کو یقینی بنایا. ہم آج کے دن اپنے تمام شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرینگے اور دفاع وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرینگے.
Commissioner Diamer Astore Division
Deputy Commissioner Astore
08:15:07 AM
09 September, 2024